سرسوں

Original price was: ₨7,300.Current price is: ₨6,300.

موجودہ مارکیٹ ریٹس: اپریل 2026 میں پاکستان میں سرسوں کی قیمت 40 کلوگرام کے حساب سے تقریباً 5,700 روپے سے 6,600 روپے کے درمیان ہے۔ ایک کلو کی قیمت 145 سے 165 روپے ہے۔ یہ ربیع کی فصل کا سیزن ہے اس لیے منڈیوں میں نئی آمد جاری ہے۔

Quality GradePrice per 40 kg (PKR)Price per kg (PKR)
High (خشک / اعلیٰ معیار)6,200 – 6,600155 – 165
Medium5,900 – 6,200148 – 155
Low (تازہ / گیلی)5,700 – 5,900143 – 148

Sarson Rate in Punjab April 2026

Punjab CitiesMinimum Price 40kgMaximum Price 40kg
LahoreRs. 5,900Rs. 6,400
Rawalpindi / AttockRs. 6,000Rs. 6,500
FaisalabadRs. 5,800Rs. 6,300
MultanRs. 5,750Rs. 6,200
BahawalpurRs. 5,700Rs. 6,100
BahawalnagarRs. 5,750Rs. 6,150
Rahim Yar KhanRs. 5,700Rs. 6,100
Chakwal / JhelumRs. 6,000Rs. 6,500
Muzaffargarh / LayyahRs. 5,750Rs. 6,200
GujranwalaRs. 5,850Rs. 6,300
SargodhaRs. 5,800Rs. 6,250
Sahiwal / OkaraRs. 5,800Rs. 6,200

Sarson Price in Sindh & KPK April 2026

CityMinimum Price 40kgMaximum Price 40kg
KarachiRs. 6,100Rs. 6,600
HyderabadRs. 5,950Rs. 6,400
SukkurRs. 5,850Rs. 6,300
PeshawarRs. 6,000Rs. 6,500
QuettaRs. 6,100Rs. 6,600

پاکستان میں سرسوں کی اہمیت

سرسوں (Mustard / Sarson) پاکستان کی ایک اہم ربیع اجناس ہے جو تیل، کھل اور سبزی تینوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ سرسوں کا تیل پاکستان میں روایتی پکوانوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرسوں کی کاشت تقریباً 26,000 ہیکٹر رقبے پر ہوتی ہے اور سالانہ پیداوار تقریباً 1,02,000 ٹن ہے۔

سرسوں کی کاشت کے اہم اضلاع میں اٹک، راولپنڈی، چکوال، جہلم، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان اور مظفرگڑھ شامل ہیں۔

قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل

ربیع سیزن: اپریل میں فصل کی کٹائی جاری ہے، نئی آمد سے قیمتیں قدرے مستحکم ہیں

خوردنی تیل کی طلب: سرسوں کے تیل کی بڑھتی طلب براہ راست قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے

کوالٹی: خشک اور صاف سرسوں زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہے

ٹرانسپورٹ: کراچی اور دور دراز شہروں میں نقل و حمل کے اخراجات قیمت بڑھاتے ہیں

نتیجہ

اس وقت سرسوں کی مارکیٹ مستحکم ہے۔ کسانوں کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ فصل کی کوالٹی اچھی رکھ کر بہتر قیمت حاصل کریں۔ روزانہ کے ریٹ کے لیے اپنی مقامی غلہ منڈی سے ضرور تصدیق کریں۔